ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / امیت شاہ وزیر داخلہ، راجناتھ سنگھ کو ملا وزیر دفاع اندرا گاندھی کے 50سال بعد نرملا سیتا رمن پہلی خاتون وزیر خزانہ

امیت شاہ وزیر داخلہ، راجناتھ سنگھ کو ملا وزیر دفاع اندرا گاندھی کے 50سال بعد نرملا سیتا رمن پہلی خاتون وزیر خزانہ

Sat, 01 Jun 2019 11:16:09    S.O. News Service

نئی دہلی،یکم جون (ایس او نیوز؍یواین آئی) وزیراعظم نریندرمودی نے اپنی نئی کابینہ کے اراکین کے محکموں کا آج اعلان کردیا،جس میں اپنے بھروسے مند بھارتیہ جنتا پارتی کے صدر امیت شاہ کو نیا وزیر داخلہ اور گزشتہ حکومت میں وزیر داخلہ رہے مسٹر راج ناتھ سنگھ کو وزیر دفاع بنایاگیا ہے۔آج دوپہر اعلان کردہ نئے وزرا میں سابق وزیر دفاع نرملا سیتارمن کو ارون جیٹلی کی جگہ وزیر خزانہ کی اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ جیٹلی نے خراب صحت کی وجہ سے وزیر بننے سے انکار کردیا تھا۔ سشما سوراج کی جگہ سابق خارجہ سکریٹری ایس جے شنکر کو نیا وزیر خارجہ بنایا گیا ہے۔ سوراج بھی خراب صحت کی وجہ سے اس بار انتخابات میں کھڑی نہیں ہوئی تھیں۔گزشتہ حکومت میں دیہی ترقیات کے وزیر رہے نریندر سنگھ تومر کو پرانے محکمے کے ساتھ وزارت زراعت کی بھی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔اتراکھنڈ کے سابق وزیراعلیٰ رمیش پوکھریال نشنک کو انسانی وسائل کی ترقی کی وزارت، پیوش گوئل کو ریلوے،تجارت اور صنعت، نتن گڈکری کو شاہراہ،ٹرانسپورٹ اور درمیانی، چھوٹی اور بہت چھوٹی صنعتوں (ایم ایس ایم ای)کی وزارت، دھرمیندر پردھان کو پٹرولیم اور اسٹیل اور مسٹر روی شنکر پرساد کو اطلاعات و نشریات اور وزارت قانون کا کام کاج سونپا گیا ہے۔وزیراعظم نریندرمودی نے عملے،عوام کی شکایت اور پینشن، نیوکلیائی توانائی،خلائی محکمے،اہم پالیسی ساز مسئلے اور ایسے سبھی محکمے اپنے پاس رکھے ہیں جو کسی کو الاٹ نہیں کئے گئے ہیں۔محترمہ سمریتی ایرانی کو ان کے پرانے محکمے کپڑے کی وزارت کے ساتھ ساتھ خواتین و اطفال کی فلاح و بہبود کی وزارت،مسٹر مہیندر ناتھ پانڈے کو مہارت کی ترقی کی وزارت اور پرہلاد جوشی کو پارلیمانی امور اور کوئلہ اور کان کی وزارت کا وزیر بنایا گیا ہے۔مسٹر رام ولاس پاسوان کو محکمے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے اور وہ پہلے کی طرح خوراک کی فراہمی اور صارفین امور کے وزیر بنے رہیں گے۔اسی طرح سے ہرسمرت کور بادل بھی پہلے کی طرح فوڈ پروسیسنگ کی صنعت کی وزارت اور مختار عباس نقوی اقلیتی امور کے وزیر بنے رہیں گے۔ تھاور چندر گہلوٹ کو سماجی انصاف اور تفویض اختیارات اور ارجن منڈا کو قبائلی فلاح وبہبود کی وزارت میں وزیر بنایاگیا ہے۔ڈاکٹر ہرش وردھن کو صحت، خاندانی بہبود،سائنس ٹکنالوجی اور ارضیاتی سائنس کا وزیر بنایاگیا ہے اور مسٹر ڈی وی سدانند گوڑا کیمیکل اور فرٹیلائزر کے وزیر بنے رہیں گے۔ وزراء مملکت میں وی کے سنگھ کو وزارت خارجہ سے ہٹاکر سڑک ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کی وزارت کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ارجن رام میگھوال پارلیمانی امور کی وزارت میں حسب سابق رہیں گے، لیکن ان سے آبی وسائل کی وزارت لے کر ہیوی انڈسٹری اور پبلک انٹرپرائزز کی ذمہ داری دی گئی ہے۔بہار سے آنے والے نیتانند رائے کو وزیر مملکت داخلہ کی اہم ذمہ داری دی گئی ہے۔ پہلی بار وزیر بنائے گئے انوراگ ٹھاکر کو وزارت خزانہ اور کارپوریٹ امور میں وزیر مملکت بنایا گیا ہے۔ گزشتہ حکومت میں فوڈ پروسیسنگ انڈسٹری کے وزیر مملکت رہنے والی سادھوی نرنجن جیوتی کو دیہی ترقیات کی وزارت دی گئی ہے۔چھتیس گڑھ کی رکن پارلیمان رینوکا سنگھ سروتا کو قبائلی امور کی وزارت کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ مغربی بنگال سے منتخب محترمہ دیباشری چودھری کو خواتین و اطفال کی بہبود کی وزارت میں وزیر مملکت کا چارج دیا گیا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی کابینہ میں عہدوں کا بٹوارہ کر دیا ہے۔ امیت شاہ کو وزیر داخلہ بنایا گیا ہے۔اس لحاظ سے حکومت میں ان کا کردار ایک طرح سے نمبر دو کا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی این ڈی اے -1 میں وزیر داخلہ رہے راج ناتھ سنگھ کواب وزارت دفاع کی ذمہ داری دی گئی ہے اور وزارت خزانہ اب نرملا سیتا رمن کو دیا گیا ہے۔ وہیں سابق خارجہ سکریٹری ایس جے شنکر کو وزیر خارجہ کا عہدہ دیا گیا ہے۔یعنی حکومت کی سب سے اہم کمیٹی سکیورٹی امور کی کمیٹی سی سی ایس میں پی ایم مودی کے علاوہ یہ چار چہرے اہم طور پر رہیں گے۔اس فیصلے کے بعد وزیر اعظم کے بعد امیت شاہ دوسرے سب سے زیادہ طاقتوروزیر رہیں گے اورپی ایم مودی کے بیرون دوروں کے دوران ملک کی باگ ڈور امیت شاہ کے ہاتھوں میں ہوگی۔ڈی اوپی ٹی، عالمی جوہری توانائی کی وزارت وزیر اعظم نریندر مودی کے پاس رہے گی۔اس کے ساتھ ہی تمام اہم پالیسی ساز مسائل سے منسلک وزارت بھی وزیر اعظم کے پاس ہی رہے گی۔


Share: